(افسانہ) بلیک آوٹ از ایم مبین
۲۴ گھنٹوں سے زائد ہوگئے تھے بجلی نہیں آئی تھی اور دن بھر جو اطلا عات ملتی رہی تھیں ان سے تو یہ محسوس ہوتا تھا کہ ابھی اور شاید۲۴ گھنٹے بجلی نہ آئے۔۲۴ گھنٹے کس طرح گذریں گے سوچ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتاتھا ۔ ۲۴ گھنٹے تو گذر گئے لیکن کس طرح گذرے اس کی روداد جیسے صدیوں پر محیط تھی۔شام چھ بجے جب اندھیر ادھیرے دھیرے چاروں طرف پھیلنے لگا تھا اچانک بجلی چلی گئی تو کسی نے بھی اس جانب توجہ نہیں دی۔ کسی بھی وقت چلاجانااور کسی بھی وقت وارد ہونا بجلی کا معمول تھا۔ اس لئے بجلی کے چلے جانے پر کسی نے توجہ نہیں دی ۔سب کو اطمینان تھا ایک دو گھنٹے میں آجائے گی کیونکہ لوشیڈنگ کا نام پر محکمہ دن میں سات گھنٹے بجلی بند رکھ کر اپنا کوٹا پورا کر چکا تھا۔وہ صرف یہی دعا مانگ رہی تھی کہ بجلی آٹھ بجے آجائے تو بہتر ہے آٹھ بجے پانی آتا ہے۔ ٹانکی پوری خالی ہے ۔اگر آٹھ بجے کے بعد آئی تو پانی نہیں ملے گا اور ۲۴ گھنٹے پانی کی پریشانی جھیلنی پڑے گی۔لیکن ۸ تو بجامگر جب ۱۰ بھی بج گئے تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور چہروں پر پریشانیوں نے ایک جال بننا شروع کردیا۔اب تو پانی ملنے سے رہا۔گھر میں پانی نہیں ہے ۔ اگر اس وقت بجلی آبھی گئی تو سویرے ۷ بجے جب پانی آتاہے پھر چلی جائے گی اور سویرے بھی پانی نہیں مل سکے گا۔ اس طرح بن پانی کے سارا دن کس طرح گذرے گا؟ایک سوال پریشان کرنے لگا۔راجو کے دسویں کے امتحانات چل رہے تھے ۔ وہ آٹھ بجے کے قریب ٹیوشن سے واپس آیا تھا اس کا ارادہ تھا کھانا کھانے کے بعد وہ دو تین گھنٹہ اسے لیکر بیٹھے گی اور اس کے پورشن کا ایک بار پھر اعادہ کرادے گی۔دو دنوں سے یہ معمول چل رہا تھا۔راجو ایک بار پورا پورشن ختم کرلیتا تو اس کے دل کو بھی اطمینان ہوجا اور راجو بھی خوش ہوجاتا اس سے اس کو کافی فائدہ پہونچ رہا تھا وہ اچھی طرح امتحان میں جوابات لکھ رہا تھا۔ٹیوشن میں بھی یہی ہوتا ہے لیکن اسے ٹیو شن پر اطمینان نہیں تھا۔جب تک راجو اس کے سامنے ممکنہ سوالات کے اچھی طرح جوابات نہیں دے دیتا تھا اسے اطمینان نہیں ہوتا تھا۔اس طرح سے ایک طرح سے راجو کا امتحان بھی ہو جاتاتھا کہ اس پرچے میں وہ کتنا پانی میں ہے اور کس طرح پرچہ لکھ کر کتنے مارکس حاصل کر پائے گا۔لیکن بجلی کے چلے جانے سے سب کچھ گڑ بڑاگیا تھا۔منی کرکر کررہی تھی۔’’ممی مجھے ہو م ورک کرنا ہے ! پاور کب آئے گی؟میں نے ہوم ورک نہیں کیا تو ٹیچر مارے گی۔’’پاور آجانے کے بعد ہوم ورک کرلینا ۔ اس نے منی کو سمجھایا سنتوش آٹھ بجے کے قریب آیا تو پسینے میں شرابور تھا۔’’پوئے شہر میں کہیں بھی پاور نہیں ہے ۔ ایک ساتھ پورے شہر کی پاور مشکل سے جاتی ہے ۔ لگتا ہے کوئی بہت بڑا فالٹ ہواہے۔ پاور جلدی نہیں آئے گی۔‘‘سنتوش کی بات پر اس نے کلیجہ تھام لیاتھا۔’ایسا مت کہو۔۔ راجو کے امتحانات ہے ۔ گھر میں پانی کا ایک قطرہ نہیں ہے ۔گرمی کا موسم ہے۔ سخت گرمی پڑرہی ہے۔مچھروں کی بہتات ہے ۔ اگر پاور رات بھر نہیں آئی تو ہم کس طرح رہ پائیں گے۔؟‘‘’میں سچ کہہ رہا ہوں یا جھوٹ معلوم ہوجائے گا ۔‘‘سنتوش مسکراکر بولا۔راجو اور سنتوش کے آنے کے بعد اس نے طے کیا بنا پاور کے آنے کی راہ دیکھے رات کے کھانے سے فارغ ہوجانا چاہیے۔اس نے سب کو حکم دیا ۔ہاتھ منہ دھوکر کچن میں آئیں ۔رات کا کھانا کھا لیتے ہیں ۔بتی کی روشنی میں انھوں نے کھانا کھایا۔بچے ڈرائنگ روم میں باپ کے ساتھ باتوں میں لگ گئے وہ جھوٹے برتن دھونے لگی۔ان سے فارغ ہوئی تو ساڑھے نو بج گئے تھے۔’’ممی پاور کب آئے گی؟مجھے ہوم ورک کر نا ہے۔اسے ڈرائینگ روم میں آتے دیکھ کرمنی پھر سے کہہ اٹھی۔’’پاور آجائے تو ہوم ورک کر لینا ورنہ چپ چاپ سوجا نا میں سویرے جلدی اٹھا دوں گی۔جلدی اٹھ کر ہوم ورک کر لینا اور اسکول چلی جانا‘‘ا سنے منی کو سمجھایا تو اس کی سمجھ میں آگیا۔’آج ورلڈ کپ کا بہت اہم میچ تھا۔پاور نہیں اآئے گا تو میچ کس طرح دیکھ سکوں گا۔ ’’سنتوش بڑ بڑایا۔‘‘تمہیں تو صرف کرکٹ کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے ۔ وہ سنتوش پر بھڑک اٹھی‘اس بات کا بھی ذرا بھی احساس نہیں ہے کہ بچے کے دسویں کے امتحانات چل رہے ہیں۔۔‘‘’کوئی بات نہیں کم سے کم اسکور تو معلوم کر لیتا ہوں۔‘کہتے ور اپنے ایک دوسرے شہر کے دوست کو موبائل لگانے لگا۔’اجے۔یار ہمارے شہر میںبجلی نہیں ہے ۔اسکو ر کیا ہوا بتاؤگے؟‘‘ممی!آج ریوزن نہیں کرنا ہے ؟راجو نے اسے ٹوکا۔’’کرنا ہے۔‘‘’’لیکن موم بتی میں۔’اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔اس نے کہا تو راجو بادل ناخواستہ موم بتی کی روشنی میںپڑھنے بیٹھ گیا۔لیکن وہ آدھے سے بھی کم پورشن مکمل کر سکے ۔’ممی!موم بتی کی روشنی میں پڑھا نہیں جارہا ہے۔آنکھیں درد کر رہی ہیں ۔’’وہ کیا کر سکتی تھی۔بے بسی سے راجو کو دیکھنے لگی پھر بولی۔‘‘’جاؤ سو جاؤ۔بجلی آئے گی تو میں جگادوں گی ۔ اور ہم پورشن مکمل کرلیں گے۔’’دن بھر کے تھکے ماندے راجو کو شاید اسی بات کا انتظار تھا۔‘‘فوراً بستر کی طرف دوڑا۔تھوڑی دیر بعد راجو اور منی گہری نیند میں کھو گئے۔ایک دو بار وہ جاکر بلڈنگ کی ٹیرس سے شہر کا نظارہ کر آئی۔یوں تو ان کے فلیٹ سے بھی سڑک کا نظارہ صاف دکھائی دیتا تھا۔لیکن ٹیرس سے شہر کا ایک بڑا حصہ دیکھا جا سکتا تھا۔سارا شہر اندھرے میں ڈوبا تھا۔مکمل بلیک آؤٹ۔جن گھروں اور دکانوں میں انور ٹریا جنریٹر کا انتظام تھا۔ ان سے روشنی پھوٹ کر تاریکی کے کچھ حصے کے راج کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ پورے شہر کی بجلی ایک ساتھ چلی جائے۔ایک آدھ حصے کی بجلی جاتی تھی تو باقی حصہ روشن رہتا تھا بلڈنگ کی ٹیرس سے صاف دکھائی دیتا تھا کس شہر کے کن حصے میں بجلی ہے اور کس حصے میں نہیں۔لیکن مکمل بلیک آؤٹ کے حالات بہت کم پیدا ہوتے تھے۔اس نے اپنے ماں باپ سے سنا تھا کہ جنگ کے زمانے میں کس طرح بلیک آؤٹ کیا جاتا تھا۔شہرکی سڑکوں کی تمام بتیاں گل کر دی جاتی تھیں ۔شہر والوں کو ہدایت دی جاتی تھی کہ وہ اپنے گھروں کی کھڑکیا ں اور دروازے بند رکھیں۔روشنی کی ایک کرن بھی باہر نہ آنے پائے ۔ بلیک آؤٹ کی وجہ سے سارا شہر تاریکی میں ڈوب کر اس کا ایک حصہ بن جائے۔تاکہ دشمن کے ہوائی جہاز اگر حملہ کرنے کے لئے آئے بھی تو انھیں اندازہ لگانا مشکل ہواجائے کہ شہر کہاں ہے اور وہ شہر پر حملہ نہ کر سکیں ۔لیکن یہ امن کے زمانے کا بلیک آؤٹ تھا۔نیچے آئی تو سنتوش موبائل پر اپنے دوست سے میچ کا اسکور معلوم کر رہا تھا۔’اب چپ چاپ سوجاؤ ۔اسکور معلوم کرکے پیسے برباد مت کرو۔صبح نتیجہ معلوم ہوجائے گا ۔وہ جھنجھلا کربولی۔‘اس اندھیرے اور گرمی میں نیند کہاں سے آئے گی۔’جب بچے سوگئے تو تمھیں کیوں نیند نہیں آئے گی؟‘‘اس کے زور دینے پر سنتوش پلنگ پر لیٹ گیا تھا لیکن گرمی کی وجہ سے کافی دیر تک سو نہیں سکا تھا۔اسے بھی بہت دیر تک نیند نہیں آئی پھر پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی ۔آنکھ کھلی تو صبح ہو گئی تھی اور ہلکی ہلکی روشنی پھیل رہی تھی۔اس نے بچوں کو جگایا۔بجلی نہیں آئی تھی ۔اس کا مطلب تھا رات بھر پورا شہر اندھیرے میں ڈوبا رہا۔اسنے منی کو ہوم ورک کرنے بٹھادیا ۔اورراجو کو اعادہ کرنے۔سنتوش سوتارہا۔وہ بچوں اور سنتوش کے لئے ناشتہ تیا ر کرکے اس نے اسے اسکول بھیج دیا۔راجو کا ریویزن مکمل ہوگیا تو اس نے امتحان گا ہ میں جاکر وہاں پر مطالعہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تو اسنے اسے بھی ناشتہ کراکے رخصت کر دیا۔تھوڑی دیر بعد سنتوش بھی جاگ گیا تھا۔ وہ بھی تیار ہوگیا اور ناشتہ کرکے ٹفن لیکر آفس چلا گیا۔وہ گھر میں اکیلی رہ گئی تھی سینکڑوں مسائل کا سامنا کرنے کے لئے۔گھر میں پانی کی ایک بوند نہیں تھی۔سامنے جھوٹے برتنوںکا ڈھیر تھا۔اور کپڑوں کابھی۔گھر کی صفائی باقی تھی ۔کپڑے تو خیر دوسرے دن پر بھی اٹھا کر رکھے جاسکتے تھے ۔لیکن جھوٹے برتن کپڑے ایک دو گھنٹے میں ان سے بدبو آنے لگی گی لیکن ان کو دھونے کے لئے پانی کہاں سے آئے؟پتہ چلا کہ نیچے بلڈنگ کی ٹانکی کھولی گئی ہے۔ ضرورت مند اس سے پانی لے رہے ہیں ۔چار منزل اتر کر بلڈنگ کی ٹانکی سے پانی لانے کے تصور سے ہی اس کی جان فنا ہونے لگتی تھی۔لیکن مجبوری ایسی تھی کہ پانی لانا بہت ضرورت تھا۔مجبوراًوہ ایک ہنڈا لیکر چار منزلہ سیڑھیوںسے نیچے اتری۔لیکن دو ہنڈوںسے زیادہ پانی نہیں بھر سکی۔۱۵،۲۰ لیٹر پانی کا ہنڈالیکرچار منزلہ عمارت کی سیڑھیاں طے کرنا ۔دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی تھیں۔سانسیں دھونکنی کی طرح چلنے لگتیں اور جسم پسینہ پسینہ ہو جاتا تھا۔اس نے جو پانی تھا اسی پر قناعت کر نا ضروری سمجھا۔کم سے کم پینے کے لے پانی تو مل گیا۔بڑی کفایت شعاری سے ضروری جھوٹے برتن دھوئے۔فریج بند تھا اس میں بہت سا سامان تھا ۔سبزیاں ،گوشت،مچھلی،بچاہو اپکا ہو اکھانا۔وہ ہفتے بھر کے لئے ضروری سبزیاں ،مچھلی گوشت لاکر فریج میں رکھ دیتی تھی تاکہ بار بار مارکیٹ نہ جانا پڑے۔لیکن فریج بند ہو جانے کی وجہ سے انکی حالت دیکھ کر پسینے چھوٹنے لگے تھے۔اگر پاور نہیں آئی تو ساری سبزیاں ،مچھلی گوشت خراب ہوجائیں گے۔اتنے پیسے حرام میں جائیں گے۔دوپہر تک یہ آس تھی کہ پاور آجائیگی تو ان مسائل سے بجات مل جائے گی لیکن دوپہر کے وقت ایک ایسی خبر آئی جس کو سن کر سارا شہر دہل گیا۔پتہ چلا کہ شہر کو بجلی سپلائی کرنے والے پاوراسٹیشن میں سر کٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی ہے جس کی وجہ سے سب اسٹیشن کا بہت نقصان ہوا ہے۔اور ممکن ہے کہ کئی دنوں تک شہر کو بجلی کی سپلائی بحال نہ ہو سکے۔اس خبر سے شہر کی عورتیں فکر مند ہو گئیں۔بلڈنگ کی عورتیں کچھ زیادہ ہی پریشان تھیں ۔’بجلی نہیں آئے گی تو پانی کس طرح ملے گا؟پانی نہیں ملے گا تو سارے کام کاج کس طرح چلیں گے؟‘‘’’بچوںکے امتحانات ہیں ۔بجلی نہیں ہوگی تو وہ کس طرح اسٹیڈی کر پائیں گے؟پڑھائی نہیں ہوگی تو امتحانات میںانھیں اچھے نمبر نہیں ملے گے۔ان کی زندگی تباہ ہو جائے گی۔وغیرہ وغیرہ سینکڑوں باتیں ہوتیں۔’شہر کو شنگھائی بنانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔بجلی کی سپلائی بحال کر نے کے انتظامات نہیں ہیں شہر شنگھائی کہاں سے بن پائے گا۔دوپہر میں راجو امتحان دیکر لوٹا تو کچھ اداس تھا۔’’کیا بات ہے راجو پرچہ تو ٹھیک گیا نا؟‘‘اس نے راجو کی صورت دیکھ کر اپنا دل تھا م لیا تھا۔’’مشکل گیا ہے ممی!اسٹیڈی نہیں ہوسکی نا۔‘‘راجو نے سر جھکا کر جواب دیااس کی آنکھوںکے سامنے اندھیرا چھانے لگا اسے لگا جیسے اس کی سال بھر کی محنت پانی میں گئی ۔راجو کا کیریئرتباہی کے دہانے پر ہے۔آج بھی بجلی نہیں رہے گی۔ممکن ہے کل بھی نہ رہے۔۔اس طرح راجو کے اور دو پرچے خراب جاسکتے ہیں۔اس کے بعد اور کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔؟موبائل کی بیٹریاں بھی ڈاؤن ہوگئی تھیں ۔انھیں چارج نہیں کیا جاسکتا تھا۔ریلائنس اور ٹا ٹا کے نیٹ ورک نے کام کر نا بند کر دیا تھا۔کیونکہ ان کے نیٹ ورلس میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بیٹریاں ڈاؤن ہو چکی تھیں۔موبائل کا رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔سڑکوں پر بھیڑ نظر آنے لگی تھی۔اس بھیڑ میں زیادہ تعداد ان مزدوروں کی تھی جو کا خانوں اور فیکٹریوں میں کام کرتے تھے۔بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ فیکٹریاں اور کار خانے بند تھے وہ بیکار تھے ۔وقت گذارنے کے لئے وہ سڑکوں پر آوارہ گردی کرکے وقت گذار رہے تھے۔شام ہوتے ہوتے پھر ایک سیاہ ،گھنا تاریک اندھیرا چاروں طرف پھیل کر شہر کو اپنی شیطانی گرفت میں لینے کی کوشس کر نے لگا۔رات ہوتے ہوتے شہر تاریکی کی اندھیری گپھا میں کھو گیا۔کل تو بھی سڑکوں پر کچھ روشنیاںچھن کر آرہی تھیں ۔لیکن انور ٹر کی بیٹریاں ڈاؤن ہوجانے کی وجہ اب وہاں پر بھی تاریکی پھیلی ہوئی تھی جن دوکانوں میں جنریٹر تھے صرف وہاں ہلکی ہلکی روشنی دکھائی دے رہی تھی۔جو اس جگہ کو منور کر رہی تھی۔باقی ایک مکمل بلیک آؤٹ سارے شہر کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔کب بجلی آئے گی کسی کو پتہ نہیں تھا۔کوئی اڑتی اڑتی خبر بھی اس بارے میں نہیں آتی تھی نہ کوئی افواہ پھیلتی تھی ۔صرف کبھی کبھی خبر آجاتی تھی کہ سب اسٹیشن میں رپیرنگ کا کام چل رہا ہے۔مرمت کا کام کتنا ہو اہے ۔کتنا باقی ہے کام کب ختم ہوگا اس سلسلے میں کوئی خبر نہیں تھی۔اس دن راجو چھ بجے ہی ٹیوشن سے واپس آگیا۔’’یوں راجو اتنی جلدی ٹیوشن سے کیوں آگئے۔’ٹیوشن کلاس میں بیٹری ڈاؤن ہوگئی ہے کوئی دوسرا انتظام نہیں ہے اس لئے سر نے چھٹی دے دی ہے اور کہا ہے کہ اپنے اپنے گھروں میں اسٹیڈی کریں۔؟لیکن گھر تو اندھیرے میںڈوبے تھے۔موم بتی کی روشنی میں کہاں سے پڑھائی ہو سکتی تھی ۔؟۸۔ ۱۰ بجے تک باہر بھٹکنے والا سنتوش بھی چھ بجے گھر آگیا تھا۔’کیوں !کیا با ت ہے۔آج جلدی گھر واپس آگئے‘‘ اس نے اسکا مذاق اڑانے والے انداز میں پوچھاتھا۔’سارا شہر تاریکی میں ڈوباہے چاروں طرف اندھیرے کا راج ہے ۔سڑک پر ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتاہے صرف سواریوں کی ہیڈ لائٹ سے جو روشنیاں ہوجاتی تھیں انہی کی روشنی میں لوگ آجارہے ہیں۔تو پھر بھلامیں اور میرے دوست اندھیرے میں کہا بھٹکے؟سب نے فیصلہ کیا چپ چاپ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اسی میں ہماری بھلائی ہے۔۔‘‘اس رات انھوں نے سات بجے ہی کھانا کھالیا۔کیونکہ دیر کر نے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔اندھیرا بڑھتا ہی جارہا تھا۔کھانا کھانے کے بعد موم بتی کی روشنی میں باتیں کر تے بیٹھے رہے۔راجو بے چین تھا۔’’ممی !مجھے بہت اسٹیڈی کرنی ہے۔‘‘’موم بتی کی روشنی میں پڑھائی کر پاؤ گے؟’نہیں ممی! پاور کب آئے گی؟’’یہ تو کوئی نہیں بتا سکتا۔‘‘گرمی اس کمرے میں بھر نے لگی۔ مچھر کانوں کے پاس گنگنانے لگے۔اور بدن میں اپنے ڈنک چبھونے لگے۔جسم سے پسینے کی دھاریں بہنے لگیں۔جیسے جیسے رات گذر رہی تھی اندھیرا بڑھتا ہی جا رہا تھا۔بلیک آؤٹایک گہرا مکمل بلیک آؤٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ختم شدہ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭٭٭٭پتہ:۔ایم مبین۳۰۳،کلاسک پلازہ،تین بتیبھیونڈی ۳۰۲ ۴۲۱ضلع تھانہ ( مہاراشٹر)موبائل:۔ 9322338918

0 comments:
Post a Comment