افسانہ) روگ از ایم مبین
رپورٹ کے آتے ہی گھر میں ایک قیامت آگئی ۔گھر کا ہر فرد ایک دہکتا ہوا آتش فشاں بن گیا ۔اور وہ پھٹ کر اس پر اپنا تپتا ہو ا لاوا برساکر اس کے وجود کے خاتمے کی فکر کرنے لگا۔گھر والوں کے چہروں کے تاثرات اچانک بدل گئے ۔کہاں پہلے اس کے لیے ان چہرے پر ہمدردی کے تاثرات ہوتے تھے آنکھوں سے اس کے لیے پیار امڈتاتھا لیکن اب ان کی جگہ چہر ہ پر غیض و غضب کے تاثرات نے ڈیر جما لیا ۔آنکھوں سے اس کے لیے نفرت کی گنگا جمنا بہنے لگیں ۔وہ غصہ اور نفرت ہر کسی کے ہونٹوں سے ابل پڑتا۔’’میں نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچاتھا کہ میری بیٹی ایسی نکلے گی ۔’’پتا جی کے لہجے میں تاسف تھا ۔‘‘میر دے وست احباب ،رشتہ دار مجھے سمجھاتے تھے للت بیٹی کو اتنی چھوٹ مت دو۔زمانہ بدل گیا ہے ۔وہ زمانہ گیا جب ساری دنیا کی لڑکیوں سے زیادہ آزادی ہم اپنی بیٹیوں کے دیتے تھے لیکن پھر بھی وہ ہماری اس آزادی کا کبھی غلط استعمال نہیں کر تی تھیں ہماری عزت وناموس پر حرف نہیں آنے نہیں دیتی تھیں ۔آجکل لڑکیوں کے قدم ڈگمگانے میں دیر نہیں لگتی۔اگر کوئی غلط قدم پڑ گیا تو اس کی شادی میں مشکلیں کھڑی ہو جائیں گی اور تمھارے لیے وہ زندگی بھر کا روگ بن جائے گی لیکن میں ان سے کہتا تھا مجھے اپنی بیٹی پر بھروسہ ہے کنتل کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی جس سے ہماری عزت وناموس پر حرف آئے نہ کبھی کنتل کے قدم لڑ کھڑا سکتے ہیں ۔لیکن آج جو با ت سامنے آئی ہے ۔ہم لاکھ چاہ کر بھی اسے ا پنے تک محدود نہیں رکھ سکتے۔کل تک یہ بات سارے رشتہ داروں کو معلوم ہوجائے گی ۔پرسوں ساری برادری جان لے گی اور کچھ دنوں میں سارا شہر ،اف ،بھگوان مہاویر تم نے یہ کونسے گناہ کی سزا مجھے دی ہے۔اس بے عزتی سے اچھا تھا تم مجھے اس وقت اپنے پاس بلالیتے جب مجھ پر دوسر ادل کا دورہ پڑا تھا ۔’’تو کلنکنی نکلے گی ہم نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سو چاتھا ‘‘ ماں نے رورو کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔،مانا! جوانی میں لڑکیوں سے نا دانیاں ہوتی ہیں۔جوانی کی رو میں وہ بھٹک جاتی ہیں۔ ان کے قدم لڑ کھڑا جاتے ہیں ۔لیکن وہ کبھی ایسا قدم نہیں اٹھا تیں جس سے ان خاندان پر کوئی انگلی اٹھائے یا جو قدم ان کی آنے والی زندگی کے لیے نرک بن جائے۔لیکن نادان لڑکی!تو نے تو ایسا قدم اٹھا یا ہے جس کی وجہ سے تونے ہمیں تو کہیں کا نہیں رکھا۔خود کو بھی موت کے دروازے پر لاکر کھڑاکر دیا ہے۔ارے جوانی کے جوش میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یہ تو دیکھنا تھا جس کے ساتھ تو اپنی جوانی کے آگ ٹھنڈی کر رہی ہے وہ لڑکا کیسا ہے؟ کہیں وہ تمھیںتمھاری جوانی کی آگ بجھانے کے ساتھ ساتھ موت کا روگ تو نہیں دے رہا ہے ؟ آخر اتنا گرنے کی ضروت ہی کیا تھی ۔ایسے لڑکے ،لڑکیوں کے ساتھ ۔۔۔ جو موت کا روگ دے چھی چھی۔۔۔۔۔۔‘‘ممی!مجھے اس پر بہت بھروسہ تھا ۔منیش بولا۔اور سچ کہتاہوں مجھے اس بات پر فخر تھا۔میرے سارے دوستوں کے کی بہنوں کے افیروسننے میں آتے تھے ۔لیکن اس کے بارے میں کبھی کوئی بات مجھے سننے میں نہیںآتی تھی میں فخر سے اپنے دوستوں میں اعلان کر تا تھا اگرمیری بہن کا کوئی ایک افیروبتا دے تو اسے جو چاہے وہ انعام دوں گا۔اور سچ مچ میرے دوست احباب میں سے کوئی بھی اس کے بارے میں کوئی اڑتی اڑتی خبر بھی لانے میں کامیاب نہیں رہا تھا۔لیکن یہ تو چھپی رستم نکلی اس نے ہمارے ،ساری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکا۔۔اور لائی بھی تو اتنی بڑی خبر جس کی وجہ سے ہم کہیں کے نہیں رہے۔ارے کوئی معاملہ ہوتا تو ہم اسے جھٹلا سکتے تھے کہہ سکتے تھے افواہیںہیں صفائی پیش کر سکتے تھے کہ ہماری بہن ایسی نہیں ہے اسے بد نام کر کے لیے یہ سازش رچی گئی ہے۔ لیکن اس نے تو کوئی راستہ باقی ہی نہیں رکھا ۔ایک ایسا روگ اپنی بد چلنی کی وجہ سے پال لیا ہے جس کے بعد اس کی پاک دامنی کی بات کر نے سے بڑی بے وقوفی ہو ہی نہیں سکتی ۔ہر کوئی ہماری باتوں کا مذاق اڑائے گا ہم پر انگلیاں اٹھائے گا۔بڑی بہن اسے سمجھانے لگی۔’’کنتی! میں جانتی ہوں جوانی میں لڑکیوں سے غلطیاں ہوتی ہیں ۔تم میرے سارے افیروجانتی ہو۔لیکن کیا کبھی کسی معاملے کے بارے میں ہمارے گھر والوں یا کسی کو پتہ چلا؟ آج بھی میرے شوہر کو مجھ پر ناز ہے ۔لیکن تم نے یہ کیا بیوقوفی کی ۔جس بات کا راز رکھنا چاہئے اس بات کی وجہ سے ایک ایسا روگ مول لے لیا ۔جس کی وجہ سے اب ساری دنیا میں تیری بد چلنی کی تشہیر ہو گی۔’’نہیں نہیں ‘‘میںبھگوان مہاویر کی قسم کھاکر کہتی ہوں ۔میں بدچلن نہیں ہوں ۔میں۔ ۔ ۔ کے دن ساری دنیا کیسامنے مندر میں حلف لے سکتی ہوں کہ میں ’’پوتر‘‘ ہوں میں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔آپ لوگ میرے’’پوترتا ‘‘پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں مجھے آوارہ بدچلن کہہ رہے ہیں ۔لیکن میں آپ لوگوں کس طرح بتاؤں میں نے ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھا یا ہے جس کی وجہ سے سماج میں آپ کو شرمندہ ہونا پڑے۔ارے بد چلنی آوارگی کی بات تو دور ہے ۔سچائی تو یہ ہے کہ کسی لڑکے نے آج تک میرے جسم کو چھوا بھی نہیں ہے ۔میں نے کسی لڑکے اپنے جسم کو چھونے کی اجازت بھی نہیں دی ہے۔اس کے باوجود مجھ پر اتنے گھناؤنے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ان الزامات کا سامنا کرنے سے پہلے مجھے موت کیوں نہیں آگئی ۔ان الزامات کو لگانے سے بہتر تھا کہ آپ لوگ مجھے میرا گلا دبا کر مار ڈالتے۔تو میں اپنا خون آپ لوگوں معاف کر یتی ۔و ہ دہاڑیں مار مار کر رورہی تھی۔’’چوری اور سینہ زوری‘‘ منیش غصے سے بولا‘‘۔ایسی بے شرم لڑکی تو شاید ہی دنیا میں کوئی ہوتی ۔ ارے ہم کیا تجھ پر الزام لگائیں گے۔ ڈاکٹری رپورٹ تیرے سارے گناہوں کا ثبوت ہے ۔تیرے گناہوں کی کہانی سناتا ہوں ۔’’بیٹی!اگر ساری دنیا آکر مجھ سے کہتی تیری لڑکی آوارہ ہے بد چلن ہے تو میںان پر بھروسہ نہیں کرتاان سے کہتا تم لوگ چاہو کچھ بھی کہو ۔مجھے میری بیٹی پر بھروسہ ہے۔میری بیٹی ایسا نہیں کر سکتی۔لیکن ڈاکٹری رپورٹ کو کون جھٹلا سکتا ہے۔تمھاری ڈاکٹری رپورٹ میں صاف طور پر لکھا تھا۔’’ایچ آئی وی ۔پازیٹو ‘‘ایک کنواری لڑکی کو ’’ایچ آئی وی پازیٹو ‘‘اسے اس کے بعد کسی کو کیااس کی کہانی بتانے کی ضرورت ہے؟ یہ سننے کے بعد ہر کوئی اندازہ لگالے گا کہ اسے ایچ آئے وی کس طرح ہو اہوگا۔اور لڑکی کا کردار کس طرح کا ہوگا۔لیکن وہ مسلسل روئے جا رہی تھی اور صاف کہہ رہی تھی اس پر اتنا بڑا الزام لگانے سے بہتر ہے اس کا گلا دباکر اسے ختم کر دیا جائے ۔اگر یہ سچائی بھی ہے ۔تو یہ قصہ یہاں پر ختم کر دیا جائے۔جس بدنامی سے وہ ڈر رہے ہیں ۔وہ ڈر جاتا رہے گا ۔کسی کو معلوم نہیں ہو گا۔گھر کی بات گھر تک رہیگی۔لیکن بھلا یہ کیا ممکن ہے؟جوماں باپ جس اولا د کو جنم دیتے ہیں ۔جسے وہ لاکھ مصیبتوں جتن سے پالتے ہیں ۔اس کی کسی بہت بڑی غلطی پر بھی کیا وہ بھی اس کی جان لے سکتے ہیں؟نہیں ۔۔ایسا ممکن ہی نہیں تھا۔وہ سب بے بس تھے۔جوان بیٹی کی نہ توجان لے سکتے تھے نہ اپنا غصہ ٹھنڈا کر نے کے لیے اس پر ہاتھ اٹھا سکتے تھے۔نہ اس کی بات پر یقین کر سکتے تھے۔ویسے بھی وہ سارے گھر کی لاڈلی تھی۔اس کے ایک اشارے پر ماں باپ چاند ستارے لاکر اس کے قدموں میں ڈال سکتے تھے۔تو بھلاوہ اس پر ہاتھ اٹھا ئے یہ ہوہی نہیں سکتا تھا۔سارے گھر والوں نے اسے اتنی باتیں سنادیں یہی بڑی بات تھی ۔وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔اور مسلسل اس بات سے انکار کر رہی تھی کہ اس نے کوئی غلطی کی ہے اس پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں جھوٹ ہیں ۔اس کے باوجود وہ اس کی بات نہیں مان رہے تھے اس کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی اور سزا تو ہو ہی نہیں سکتی تھی۔اس کی آنکھوں میں اگر آنسو آجائے تو سارا گھر تڑپ اٹھتاتھا۔اور سب اسے چاروں طرف سے گھیر لیتے تھے۔’’بیٹی! تمھارے آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میرے کلیجے پر چھریاں چلنے لگتی ہیں۔بتا تجھے کیادکھ ہے۔لیکن وہ آج مسلسل آنسو بہائے جارہی تھی۔لیکن اس کے آنسوؤں کا کسی پر بھی کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔پھر اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر سب چلے گئے۔وہ اپنے کمرے میں آکر پلنگ پر لیٹ کر آنسو بہاتی رہی۔کسی نے بھی آکر جھانک کر بھی نہیں دیکھا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔اس نے کھانا کھایا یا نہیں۔وہ کھانا کھانا چاہتی ہے یا نہیںگھر کے ممبران تو دور گھر کے کسی نوکر نے بھی آکر نہیں پوچھا۔وہ رات بھر نہیں سو سکی ۔روتے روتے اس کی آنکھیں سوجھ گئیں ۔گلا رندھ گیا۔کمزوری کی وجہ سے اسے چکر آنے لگے رات بھر طرح طرح کے وسوسے اسے گھیرے رہے۔طرح طرح کے خیالات اس کے اندر ایک ادھم مچاتے رہے۔بار بار اس کے ذہن میں ایک ہی خیال آرہا تھا۔’’وہ خود کشی کرلے۔‘‘ اپنی زندگی کا خاتمہ کرکے اپنے غموں سے نجات حاصل کر لے اور اپنے گھر والو ں کو ممکنہ بد نامی سے بچالے۔وہ غور کرنے لگی تو اسے محسوس ہونے لگا گھر والوں کوکا غصہ حق بجانب ہے ۔ایسی حالت میں ہر گھر والے اپنی لڑکی کے ساتھ یہی بر تاؤ کر سکتے تھے بلکہ اس کو محسوس ہوا یہ گھر والوں کا لاڈ پیار ہے۔معاملہ باتون پر ختم ہوگیا۔اگر وہ کسی اور گھر میں ہوتی تو ابھی تک اس کا جسم نیلا پیلا ہوگیا ہوتاکوئی بھی گھر والے کیا دنیا سے اس بدنامی کے بر داشت کر سکتے ہیں کہ دنیا والے ان پر انگلی اٹھاکر کہے وہ اس کنواری لڑکی کے ماںباپ ہیں جسے اس کی بد چلنی کی وجہ سے ایڈ س کا موذی روگ لگ گیا۔اگر یہ سچائی تھی تو سچائی یہ بھی تھی کہ اسنے کبھی ایسا قدم نہیں اٹھایا تھا جس کی وجہ سے اسے ایڈس کا مرض لاحق ہو۔لیکن وہ اپنی اس سچائی کس طرح ثبوت دے اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ڈاکٹر کی رپورٹ میں صا ف لکھا تھا۔ایچ آئی وی۔پازیٹو۔ڈاکٹری رپورٹ کی بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔وہ ہمیشہ بیمار رہتی تھی۔بیماریاں کبھی کافی طویل ہوتی تھی تو کبھی مختصرسی۔بیماریوں کا باقاعدگی سے علاج ہو تاتھا ۔اس کی بیماریوں کے علاج میں غفلت نہیں کی جاتی تھی ۔کیونکہ وہ سارے گھر کی لاڈلی تھی ۔اورگھر میں پیسوں کی ریل پیل کی وجہ سے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔گھر کا فیملی ڈاکٹر تھا۔لیکن جہاںوہ کسی بیماری کے بارے میں کسی دوسرے ڈاکٹر سے علاج کر وانے کا مشورہ دیتا فوراً اس سے رجوع کیا جاتا تھا۔کئی سالوں سے اس طرح زندگی گذر رہی تھی۔ڈاکٹروں کا کہنا تھا ۔وہ بہت کمزور ہے۔اس لیے چھوٹی چھوٹی بیماری بھی اس پر بہت جلد حاوی ہو جاتی ہیں ۔کئی سالوں سے یہ سلسلہ چل رہا تھا۔اچانک ڈاکٹر کے پتہ نہیں کیا بات ذہن میں آئی اس نے ۔’ایچ آئی وی‘ ٹسٹ کا مشورہ دیا۔اس پر کسی نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔سمجھا یہ ڈاکٹر کا کوئی فارمل ٹسٹ ہے۔ڈاکٹر لوگ تو اپنے مفاد کے لیے اس طرح کے عجیب وغریب ٹسٹ کراتے رہتے ہیں ۔اب ان کے کسی ٹسٹ کی مخالفت بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔اس لیے اس ٹسٹ کو بھی سیریس نہ لیتے ہو ئے اس نے اپنا ایچ آئی وی ٹسٹ کروالیا۔اور ٹسٹ کی رپورٹ آتے ہی گھر میں یہ قیامت چھا گئی۔دوتین دن اسی طرح گذرے۔اس نے اپنے کمرے سے باہر قدم نہیں نکالا ۔ایک دن تک تو کسی نے بھی اسے کھانے پینے کے لیے نہیں پوچھا۔لیکن پھر ماں کی ممتا جاگی۔اور وہی اسکے کمرے میں آئی اور اس کی منت سماجت کر کے اسے کھانا کھانے کیلئے مجبور کر نے لگی۔ماں کی منت سماجت سے مجبو ر ہوکر اس نے کسی طرح کھانا زہرما رکر کیا۔ایک ہفتہ بعد گھر والوں نے سوچا رپورٹ پر تو انھوں نے طے کر لیا کہ کنتل کو ایڈس جیسا بدنام روگ ہے ۔لیکن انھوں نے ابھی تک رپورٹ ڈاکٹر کو بتائی نہیں نہ اس سلسلے میں اس سے مشورہ طلب کیا ۔تو انھوں نے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا طے کیا۔وہ ضد کرنے لگی کہ وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جائیگی لیکن اسے زبر دستی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔رپورٹ دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نے وہی کہا جس کے بارے میں انھوں نے اندازہ لگایا تھا ۔لیکن جب ماں نے پوچھا۔’’ڈاکٹر صاحب! کنتل کو یہ روگ کس طرح ہو ا ۔‘‘’’ممکن ہے کنتل کے کسی ایسے لڑکے سے جسمانی تعلقات قائم ہوئے ہوں گے جو اس موذی مرض کا مریض رہاہوگا ۔اس کی وجہ سے کنتل کو یہ روگ ہو اہوگا۔‘‘تو وہ احتجاج کرنے لگی کہ جسمانی تعلقات تو دور کی بات آ ج تک کسی لڑکے نے اس کے جسم کو چھوا بھی نہیں ہے ۔پھر یہ روگ اسے کس طرح لگ گیا۔اس کے احتجاج پر ڈاکٹر کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔پھر بولا۔’’ایڈس صرف جسمانی تعلقات کی وجہ ہی سے نہیں ہوتا ہے ۔کسی ایڈس کے مریض کا خون چڑھانے سے بھی ہو سکتا ہے۔اور کسی ایڈس کے مریض کو لگائے گئے انجکشن سے بھی اگر کسی صحت مند آدمی کو انجکشن لگایا جائے توبھی اسے ایڈس ہو سکتا ہے۔ کنتل کئی سالوں سے بیمار ہے ۔اس کا علاج کئی ڈاکٹروں کے پاس ہو اہے۔کسی ڈاکٹر نے لاپر واہی سے اسے کبھی کسی ایسی سوئی سے انجکشن لگا دیا ہوگا جو کسی ایڈس کے مریض کو دی گئی ہو۔اس کی وجہ سے بھی کنتل کو ایڈس ہو گیا ہوگا۔ڈاکٹر کی بات سن کر وہ خوشی سے اچھل پڑی۔اسے ایسا لگا جیسے اس کے سارے گناہوں کے الزامات سے بری کر دیا گیا ہے اس نے اپنے گھر والوں کی طرف دیکھا ۔ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور چہرے سے مسرت جھلک رہی تھی۔مسرت اس بات کی تھی کہ انھیں اس بات کا احسا س ہوگیا تھا ان کی بیٹی آوارہ بد چلن نہیں ہے۔اب وہ سماج میں سر اٹھا کر چل سکتے ہیں ۔انھیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔اسے اور اس کے گھر والوں کو اس بات کی کوئی پر واہ نہیں ہے۔کہ اس کی بیماری لاعلاج ہے۔وہ ہنستے ہنستے موت کو گلے لگا سکتی تھی ۔کیونکہ اسے اس بات کی خوشی تھی اس کے گھر والے اس کی موت پر آنسو بہائیں گے۔ان کے دل میں اس کے لیے کوئی نفرت نہیں ہے۔زندگی اور موت اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔اوپر والے سے ہر کوئی زندگی چاہتا ہے ۔کبھی موت کی دعا نہیں کر تا۔موت کب آئے گی کسی کو علم نہیں ہوتاہے۔لیکن کسی کو علم ہو جائے کہ وہ مر نے والا ہے تو اس کی زندگی کتنی کر بناک بن جاتی ہے ۔ ہر لمحہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ابھی موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لئے آیا ۔اور وہ اس دنیا سے چل دیا۔اس کی زندگی کو لاحق روگ کی وجہ سے کچھ اس راہ پر چل نکلی تھی ۔لیکن کم سے کم اسے اس بات کا احساس اور خوشی تو تھی کہ اس کے گھر والے اس کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ (غیر مطبوعہ)٭٭٭ طبع زاد
ایم مبین۳۰۳
،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی ۳۰۲ ۴۲۱ضلع تھانہ
( مہاراشٹر)موبائل:۔ 932233
M.Mubin
303 Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI- 421 302
Dist. Thane (Maharashtra)
Mobile:-09322338918Email:- mmubin123@gmail.com
Website:- http://www.adabnama.com
Urdu Short Story Rog By M.Mubin
Posted by
Ifa
Monday, August 24, 2009
Labels: Urdu Short Story Rog By M.Mubin

0 comments:
Post a Comment